صدرشی جن پھنگ چین کی 70ویں سالگرہ کی تقریبات کے بعد پہلے غیرملکی دورے کا آغاز کرتے ہوئے جمعہ کو بھارت پہنچ گئے ہیں اتوارکو وہ نیپال چلے جائیں گے اِس دورے کو سفارتی حلقے بہت اہمیت دے رہے ہیں کیونکہ چند روز قبل تک دورے کے حوالے سے کافی خدشات تھے لیکن جلد ہی دونوں ممالک نے تنائو کم کرلیا دہلی حکومت کی آرزو تھی کہ چینی صدر جنوبی ایشیا کے دورے کاآغاز بھارت سے کریں جسے معمولی پس و پیش کے بعد قبول کر لیاگیا مگر آج کل پاک چین مراسم خاصی بلند اور قریبی سطح پر ہیں شاید اسی لیے دورے سے قبل پاک چین بیٹھک ضروری سمجھی گئی تاکہ دونوں قریبی دوستوں کواپنی حدود و قیود کے تعین میں سہولت رہے عمران خان اور قمرجاوید باجوہ چین کادورہ مکمل کرکے وطن آچکے ہیں اگر بھارت بڑی منڈی ہے تو پاکستان نے بھی چین کے آگے سب کچھ رکھ دیا ہے چینی کمپنیوں کو گوادر میں ٹیکس سے استثنیٰ دے کراوربیجنگ سے تجارت میں چودہ ارب ڈالر کا خسارہ اُٹھا کر بھی اسلام آباد نہ صرف خوش اور مطمئن ہے بلکہ اِس سلسلے کو مزید وسعت دینے کا خواہشمند ہے چین کو دہلی سے ایسی مراعات نہیں مل سکتیں پھر بھی دہلی اور بیجنگ بظاہر اپنی اپنی ضرورتوں کی بنا پر ایک دوسرے کورام کرنے میں مصروف ہیں ممکن ہے چینیوں کو بحرحل اِس بات کا ادراک ہو کہ کچھ بھی ہو جلد یا بدیر ایسا موقع آسکتا ہے جب بھارت دوستی کا پیراہن اُتارکر للکارنے لگے اسی لیے وہ دہلی کواربوں کی برآمدات کے باوجود اعتماد میں گرمجوشی ظاہر نہیں کرتا لیکن نظر اندازکرنے سے بھی گریز کرتا ہے ۔چینی صدر ایسے حالات میں بھارت گئے ہیں جب کشمیر کی وجہ سے پاک بھارت کشیدگی نہ صرف عروج پر ہے بلکہ دونوں جوہری ممالک نے باہم مزاکرات کے دروازے بھی بند کر رکھے ہیں رواں برس 27فروری کو فضائی جھڑپ کے دوران اپنی طاقت کا اظہار بھی کر چکے ہیں اِس لیے دیکھنا یہ ہے کہ چین بھارت سے نئے معاہدے کرتے ہوئے کیا طرزِعمل اپناتا ہے؟ اگر وہ کشمیر پر بھارت کے یکطرفہ اقدام پر غیر واضح اور مبہم موقف اپنا تا ہے تو یہ صورتحال پاکستان کے لیے قطعی غیر متوقع اور نا قابلِ قبول ہوگی اور اگر بھارت میں چینی صدر تنقید کرتے اور کشمیر کی خصوصی حثیت کے خاتمے کو اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ قراردادوں کے منافی کہتے ہیں تو بھارت چین تجارت متاثر ہو سکتی ہے اِ س لیے چاہے سفارتی زبان میں ہی بات چیت ہو بہت کچھ واضح ہوجائے گا چنائی میںمودی اور شی کے درمیان گفتگو کا باقاعدہ ایجنڈا طے نہیں بلکہ دونوں رہنمائوں کا کھلے دل سے بات چیت کرنے کا پروگرام ہے لیکن بات چیت کرتے ہوئے چاہے قہقہے لگائے جائیں تلخیاں ظاہر ہوجاتی ہیں اگر تلخی کا عنصر محسوس نہیں ہوتا تو یہ بات طے ہے کہ حالات سے سمجھوتہ ہو چکا ہے یہ بات زہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ چینی تجارت میں بہت زہین ہیں اور وہ نقصان کا سودا نہیں کرتے اور پاکستان سے زیادہ چین کو بھارت سے نفع ملتا ہے جس میں کوئی ابہام نہیں۔پاک بھارت جوہری قوتوں میںتنائو سے دنیا میں پریشانی ہے اور وہ دونوں کو مزاکرات کی میز پر لانے کے لیے کوشاں ہے لیکن کامیابی نہیں مل رہی بلکہ بھارت نے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگا کر بات چیت کے عمل سے مسلسل بے رخی اختیار کیے رکھی 5اگست کے بھارتی اقدام کے بعد اب پاکستان بھی مزاکرات کے عمل کی طرف آنے سے انکاری ہے یوں دنیا کا گنجان آباد خطہ مسلسل خطرے میں ہے کیونکہ دونوں ممالک تنازعہ کشمیرکی وجہ سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکیاں دہراتے رہتے ہیں اوردنیا کی اپیلوں پر کم ہی کان دھرتے ہیں شی جن پھنگ چاہیں تو اپنے دورے کے دوران تنائو میں کمی لا سکتے ہیں لیکن چینی قیادت کے نبض شناس ایسی امیدکم ہی رکھتے ہیںپاک بھارت تلخیاں اتنی گہری ہو چکی ہیں کہ مسلہ کشمیر ختم ہو یابرقرار رہے بیجنگ کو کچھ خاص فرق نہیںپڑتا کیونکہ لڑائی کی صورت میں دونوںکو اسلحے کی ضرورت ہو گی جسے چین پوراکر سکتا ہے بھارت کی انتہا پسند ہندو حکومت نئے بکھیڑے جنم دینے کی ماہر ہے کوئی نہ کوئی نیا تنازعہ پیدا کرلے گی جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کے جواب میں کشمیر کی خصوصی حثیت کا خاتمہ کرکے اُس نے اقوامِ عالم کے روبرو حقِ خوداِرادیت کے تسلیم شدہ وعدوں سے رو گردانی کی ہے اُس کے بعدبھارت سے اچھائی کی توقع نہیں رہی اسی لیے اب دنیا بھارت پر دبائو ڈالنے کی بجائے پاکستان کو صورتحال تسلیم کرنے کا مشورہ دینے لگی ہے اور ایسے مشورے دینے میں سعودیہ کے علاوہ عرب امارات پیش پیش ہیں عین ممکن ہے ایسے مشوروں میں اُنھیں کوئی اسلام پسندی یا انسان دوستی نظر آتی ہو۔بھارت کو بروقت چالیں چلنے میں خاصی مہارت ہے نیز خطے کا بڑا ملک ہونے کی وجہ سے اُ س کی بات نہ صرف سنی جاتی ہے بلکہ اہمیت بھی دی جاتی ہے اسلامی ممالک میں بھی اُسے خاصہ اثرورسوخ حاصل ہے اب تو اوآئی سی بھی اُسے مبصر کی حثیت سے مدعو کرنے لگی ہے ایک انتہا پسند ہندو ملک کے جنونی وزیرِ اعظم نریندمودی کو اسلامی ممالک اعزازات سے نوازنے لگے ہیںیہ سفارتی مہارت کی واضح جھلک ہے 1994میں جب پاکستان کی تجویز پر او آئی سی نے کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کے خلاف اقوامِ متحدہ میں قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ کیا جس سے نہ صرف بھارت کی مزمت ہونے کا مکان پیدا ہوگیا تھا بلکہ بہتری کے لیے خطے میں یو این اوکوکردارادا کرنے کا موقع مل جاتادنیا کی طرف سے اقتصادی پابندیاں بھی لگ سکتیں تھیںجس سے مسلہ کشمیر کے حل ہونے کی راہ ہموار ہوجاتی کہ بھارتی وزیرِ اعظم نرسیمارائو نے بمشکل چلنے پھرنے والے ہسپتال میں داخل اپنے وزیرِ خارجہ دنیش سنگھ کورات کے اندھیرے میں علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے نام خط دے کرتہران بھیج دیا جو انھوں نے اسٹریچر پر لیٹ کرایرانی صدرکو پہنچایا اور درخواست کی کہ قرارداد کی منظوری کے وقت ایران اجلاس سے غیر حاضر رہے تاکہ مغربی ممالک کو مداخلت سے روکا جا سکے ایران فریب کا شکار ہوگیا کیونکہ او آئی سی میں تمام فیصلے اتفاقِ رائے سے ہوتے ہیں اور کسی ایک رکن کی غیر حاضری سے فیصلہ التوا میں چلا جاتا ہے یہی کچھ ہوا باقی تاریخ ہے اب ایران پر پابندیاں بھی لگتی ہیں تو بھارت احسان فراموشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران مخالف کیمپ کے ساتھ ہوتاہے لیکن کیا کیا جائے مملکتوں کے تعلقات مفاد کے تابع ہوتے ہیں اخلاص یا اصول کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔نصف صدی بعد یو این او کی سلامتی کونسل میں کشمیر پر بحث ہوئی ہے مگر بھارت نے کمال مہارت سے انسانی حقوق کمیٹی میں پاکستان کو قرارداد پیش کرنے میں ہزمیت سے دوچار کیا ہے اب بھی بھارتی چالاکیوں پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ خطے کی صورتحال کے تناظر میں چین کو ہمنوا بنانے یا غیرجانبدار رکھنے پر قائل کرنے کے لیے اچھی پیشکش کی جاسکتی ہے چینیوں کی کمزوری نفع کمانا اور اپنی شرائط منوانا ہیں سرحدی تنازعات کے حوالے سے دونوں ملک رابطے میں ہیں اب عین ممکن ہے کشمیر کی خصوصی حثیت کے خاتمے کے بعد بھارت چین کی توقعات کے مطابق لداخ تنازعہ حل کرنے کی پیشکش کردے اگر بھارت لداخ کے علاقے اکسائی چن کو چین کا حصہ تسلیم کر لیتا ہے تو چین بھی اروناچل پردیش پر حق جتانے سے دستبردار ہوسکتا ہے مزید یہ کہ سی پیک کی وجہ سے گلگت و بلتستان پر اعتراض سے بھی پیچھے ہٹنے کی پشکش کی جا سکتی ہے جو چین کے لیے اضافی سہولت ہوگی یہ صورتحال ہر لحاظ سے بیجنگ کے لیے آئیڈیل ہوگی جس پر اسلام آباد کو نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے یادرکھیں ایران کے بعد چین کی طرف سے بھی زخم لگتا ہے تو کشمیر کا کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل بہت مشکل ہو جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔