جمہوری لوگ جمہوری جدوجہد کرتے ہی اچھے لگتے ہیں ۔ ملک میں 40سال سے اقتدار سے چمٹے لوگوں کوپہلی دفعہ عمران خاں کی وجہ سے نہ صرف مراعات سے ہاتھ دھونا پڑا بلکہ ماضی جیسا پروٹوکول نہ ملنے اور کورٹ کچہری کے چکروں نے کچھ سیاستدانوں کو چکرا کے رکھ دیا ہے ۔ ماضی میں ایک دوسرے کو چور ڈاکو کہنے والے ، سڑکوں پہ گھسیٹنے کے دعوے کرنے والے ، لوٹی ہوئی دولت برآمد کرنے کے لیے پیٹ پھاڑنے ، سرے محل اور ایون فیلڈ کو کرپشن کی کمائی سے حاصل کرنے کے نہ صرف الزامات عائد کرتے رہے بلکہ مقدمات بھی قائم کیے جاتے رہے ، ایک دوسرے کا ساتھ دینا تو دور کی بات اقتدار کی خاطر کھڈے لائن لگانے کے لیے ریاستی اداروں کی غلامی قبول کرتے رہے ، ججوں کے ذریعے سزائیں دلواتے رہے مگر عمران خاں تبدیلی کا نعرہ لے کر میدان میں آیا ، کامیاب ہوا ، ملک کے عوام کا خون چوسنے والے ، نہ صرف قومی خزانے کو خالی کرنے بلکہ آئی ایم ایف سے قرضوں کے انبار تلے قوم کو دبانے کے ذمہ داران آج باہم شیر وشکر نظر آرہے ہیں ، پی ڈی ایم کی صورت میں عمران خاں حکومت کا تختہ کرنے کے لیے ہر حربہ اختیار کر کے دیکھ لیا گیا مگر کوئی کامیابی نہ ہوئی ۔وزیر اعظم عمران خاں نے جس تبدیلی کا خواب عوام کو دکھایا تھا وہ تبدیلی تو نظر نہ آئی البتہ اس صدی کی سب سے بڑی تبدیلی عمران خاں کی وجہ سے قوم نے دیکھ لی کہ کل تک ایک دوسرے کی گردن دبوچنے والے آج عمران خاں کی مخالفت میں ایک ہی تھالی میں کھانا کھارہے ہیں ، بلکہ مسلم لیگ ن والوںنے توچوہدری برادران سے رابطہ کرکے اپنی آخری حدبھی شاید پار کر لی ہے ۔ پی ڈی ایم کی تحریک یوں تو پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن کا گرینڈ الائنس ہے ، جس کا ایجنڈ ا ملکی مسائل کو اجاگر کرنا یا حل کرنے کے لیے منظم کوشش کرنا نہیں ہے بلکہ صرف ایک ہی ایجنڈا ہے اور وہ ہے کہ عمران خاں سے چھٹکارا کیسے حاصل کیا جائے ۔ کبھی سڑکوں پر ، کبھی جلسوں میں ، کبھی پارلیمنٹ میں عمران خاں کے خلاف تحریکیں چلائیں گی مگر ہردفعہ عمران خاں کی چھٹی کی بجائے پی ڈی ایم اپنی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی رہی ۔ جس کی بنیادی وجہ مضبوط اور جمہوری اپوزیشن کا کردار ادا کرنا نہیں بلکہ نیب میں موجود کیسز سے ریلیف حاصل کرنا ہے ، جس کسی کو تھوڑا بہت ریلیف ملتا وہ پی ڈی ایم پرکو خود ہی سرپرائز دے دیتا ہے ۔گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں عوام نے سیاستدانوں کے وہ پینترے دیکھے ہیں جو شاید عمران خاں کی حکومت نہ آنے کی وجہ سے زندگی بھر نہ دیکھ سکتے ۔ بلکہ ماضی کے دس سالہ دور کی طرح عوام کی آنکھوں میں نمک ڈال کر کے دونوں پارٹیاں کھائو اور کھانے دو کی پالیسی پر گامزن رہتے ہوئے ، فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہتی، ملک آئی ایم ایف کی غلامی میں جاتا رہتا ، ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کی بجائے اپنی داخلی اور خارجی خود مختاری پر سمجھوتے کرتا رہتا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی سے وابستہ امیدیں شاید دم توڑنے لگی ہیں ،عوام جس معاشی ، امن اور انصاف کے انقلاب کی امیدیں لگائے بیٹھے تھے وہ خواب چکنا چور ہوتے نظر آرہے ہیں ۔ مہنگائی کا نہ تھمنے والا طوفان کرونا وباء سے زیادہ خطرناک ثابت ہورہا ہے ، اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ موجود حکومت کی اپنے ایجنڈے کی تکمیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سسٹم کی خرابی ہے ، عمران خاں کی اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں سب سے بڑی غلطی نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینا ثابت ہوگی ،اس ضمن میں 4ہفتے کے لیے علاج کی اجازت دینے والے جج صاحب سے بھی قوم یہ معصومانہ سوال کرنے کی جسارت کرتی ہے کہ کیا یہی انصاف ہے کہ 4ہفتے کی ضمانت حاصل کرنے والا سزایافتہ شخص کئی سال گزار دے اور ضمانتیں دینے والا بھائی بھی کھلے عام سیاست کرے مگر کوئی عدالت انہیں پابند نہیں کررہی کہ بھائی 4ہفتے چھوڑیں ، چار مہینے چھوڑیں اب تو بات۔۔۔۔۔کیا غریب کے لیے بھی پاکستان میں کہیں ایسا انصاف ہے ؟مسلم لیگ ن کی پارٹی سربراہی جب سے پاکستان میں مریم نواز سے ذرا ہٹ کر شہباز شریف کے پاس آئی ہے ایک دفعہ پھر پی ڈی ایم کے مردہ گھوڑے میں جان تو ڈال دی گئی ہے مگر یہ پی ڈی ایم کب تک اپنا وجود برقرار رکھ سکے گی کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ پی ڈی ایم کی جانب سے سڑکوں کی سیاست کی بجائے عدم اعتماد کا راستہ اختیار کرنے کا اعلان ہورہا ہے ۔لگتا ہے کہ یہ پی ڈی ایم کا بھی فائنل رائونڈ ہی ہوگا۔ حکومت شاید اپنے مخالفین سے زیادہ اتحادیوں سے خوفزدہ ہے کہ اگر انہوں نے ساتھ چھوڑ دیا تو حکومت سے ہاتھ دھونا پڑجائے گا۔ یہی وجہ سے گزشتہ روز ایک تقریب میں مسلم لیگ ق کے رہنما اور وفاقی وزیر چوہدری مونس الٰہی نے لاہور میں میاں شہباز شریف کی چوہدری برادران کی رہائش گاہ پر آمد کے حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے کہ وزیر اعظم عمران خاں ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنے لوگوں کو تگڑا کر کے سمجھا دیں کہ گھبرانا نہیں ۔ سیاستدان ایسے مواقع کی تلاش میں ہوتے ہیں جہاں کچھ اختیارات لینے اور دینے کی پوزیشن میں آجائیں ۔ پی ڈی ایم کی ماضی کی سیاسی ترتیب اور حکمت عملی کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ گزشتہ تمام تحریکوں کی طرح عدم اعتماد کی تحریک بھی ناکام ہوجائے گی ۔ کیونکہ اتحادیوں کے ساتھ پی ڈی ایم میں موجود پارٹیاں بھی بارگین کی پوزیشن میں آجاتی ہیں اور یقینا وہ اپنا کردار بھی ادا کریں گی لیکن اگر ہم کچھ لمحوں کے لیے فرض کر بھی لیں کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجاتے ہیں اور عمران خاں وزیر اعظم نہیں رہتے تو پھر یہ بات کوئی نہیں بتا سکتا کہ پی ڈی ایم میں سے متحدہ امیدوار براے وزیر اعظم کون ہوگا یا پھر کس پارٹی سے ہوگا۔ جس طرح حکومت کو اپوزیشن سے زیادہ اتحادیوں کو راضی کرنے کی فکر لگی رہتی ہے اسی طرح پی ڈی ایم کے قائدین مولانا فضل الرحمن ، چوہدری پرویز الٰہی اور بلاول بھٹو زرداری کو لگی رہتی ہے کہ ہم میں سے کوئی وقت آنے پر ہمیں ہی ہاتھ دکھا جائیگا۔ اگر عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوتی ہے کہ تو پھر پی ڈی ایم ایک دفعہ پھر بغل بچہ ، سمجھوتہ گروپ جیسے الزامات لگاتے ہوئے کچھ عرصہ کے لیے خاموش ہوجائے گی۔ جو عدم اعتماد عمران خاں پر کیا جارہا ہوگا وہ ان کے اپنے ہی خلاف عدم اعتماد ہوجائے گا۔ اپوزیشن جماعتوں کی بچی گھچی ساکھ بھی خراب ہوجائے گی اور اس کے اثرات قومی الیکشن پر بھی پڑیں گے ۔ وزیراعظم عمران خاں اور ان کی ٹیم کو اب چاہیے کہ جتنا زور مخالفین سے پیسے نکلوانے کے لیے لاحاصل جدوجہد پر لگایا ہے اب اگر ہوسکے تو اس سے بھی زیادہ زور مہنگائی کو ختم کر کے اشیائے ضروریہ کو مزید سستا کرنے پر لگا دیں وگرنہ قومی الیکشن میں اس کا خمیازہ بری طرح شکست کا سامنا کر کے بھگتنا پڑے گا۔