مری کی دلکش وادیاں ، برف باری کے حسین و جمیل مناظر ہر سال سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لاتی ہیں ، نہ صرف پاکستان کے طول وعرض سے بلکہ غیر ملکی لوگ بھی ان مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے پاکستان کا رُخ کرتے ہیں ، رپورٹ کے مطابق صرف تین دن میں ایک لاکھ گاڑی مری میں داخل ہوئی جبکہ صر ف2ہزار واپس آئی، طوفانی برفباری کے باعث 22لوگ جان کی بازی ہار گئے ، ہزاروں لوگ شدید سردی میں کھلے آسمان تلے گاڑیوںمیں رات بسر کرنے پر مجبور رہے ، سارا دن بھی ٹریفک میں پھنسے رہنے کی وجہ سے نہ تو موسم انجوائے کرسکے اور نہ ہی کسی محفوظ ٹھکانے تک پہنچ سکے ، واقعہ سے ایک روز قبل وزیر اعلیٰ پنجاب سیاحت کے حوالے سے مری میں لوگ کے داخلہ اور رش کی بناء پر خوش ہورہے تھے اور بتا رہے تھے کہ ایک لاکھ سے زائد گاڑیاں داخل ہوگئیں ہیں ، واقعہ کے بعد وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اسی عمل کو غلطی قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ غلطی ہوگئی آئندہ داخلہ بند کردیا جائے گا اور اتنی تعداد میں لوگوں کو مری میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔سانحہ مری میں سیاحوں کی ہلاکت سے ہر پاکستانی کادل دہل گیا ، ہر کوئی غمزدہ دکھائی دیا، جوان نوجوانوں، بچوں اور خواتین کی ہلاکت سے جہاں ان کے اہل خانہ سوگوار تھے وہاں ہر پاکستانی بھی ان کے دکھ درد میں برابر کا شریک تھا ،مقامی آبادی اور وہ مذہبی جماعتیں خراج تحسین کی مستحق ہیں جنہوںنے بے سروسامانی کے عالم میں بھی باہر نکل کر لوگوں کی مدد کی اور جانوں کو بچانے کے لیے اپنی جانیں دائو پر لگادیں ، پاک فوج کے جوان کو سلام جنہوںنے لوگوں کو ریسکیو کیا اور ان کے کھانے پینے کا انتظام ایسے کیا جیسے ان کے گھروالے کسی مصیبت میں پھنسے ہوئے ہوں، ہر وقت اسٹیبلشمنٹ پر زبانیں دراز کر کے طعنہ زنی کرنے والے نظر نہ آئے بلکہ وہی جوان اس مصیبت میں اپنے بہن بھائیوں کو بچانے کے لیے نکلے جنہیں کہا جاتا ہے کہ ان کا کام صرف سرحدوں کی حفاظت ہے ، مقامی انتظامیہ کو قصور وارٹھہرانا زیادتی ہوگی سول انتظامیہ کے بے شمار لوگ دن رات جاگتے رہے ، وہاں کی ڈی ایس پی اجمل ستی کی ویڈیوز اور تصویریں دیکھنے کو ملیں جو خود گاڑیوں کو دھکے لگاتے رہے ، لوگوں کو بچاتے رہے ، ایسے بے شمار سول افسران بھی موجود تھے مگر وہ میڈیا کوریج نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی توجہ حاصل نہ کرسکے ، پاکستان کے عوام اور مقامی ادارے اتنے بھی بے حس نہیں کہ چپ چاپ تماشہ دیکھتے رہے اور لوگوں کی جانوں کی فکر نہ کریں ۔ ہر کسی نے اپنے بس کے مطابق خدمات سرانجام دیں ۔ جن جن لوگوں نے بھی اﷲ کی رضا کی خاطر اپنی پاکستانی بھائیوں کی مدد کی اس کا اجر انہیں اﷲ کے ہاں سے ضرور ملے گا۔ کسی شخص کی وجہ سے اگر ایک جان بھی بچ گئی ہو تو گویا اس نے پوری انسانیت بچالی ہے ۔ سانحہ مری میں حکومت اور اپوزیشن اس المناک واقعہ پر بھی سیاست ہی کرتے نظر آئے ، لوگوں کی مدد کے لیے میدان میں اترنے کی بجائے ایک دوسرے کو الزام تراشیوں اور لفظی گولہ باری کر کے ہی قوم تسکین حاصل کرتے رہے ، وزیراعظم عمران خاں کو اگر چار سال پہلے کی اپنی ہی تقریریں یاد ہوں تو وہ کہتے تھے کہ کوئی بھی سانحہ ہو حکمران کو وہاں موقع پر جانا چاہیے اور اس کے لیے وہ مغربی حکمرانوں اور خلفائے راشدین کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے مگر اس سانحہ پر ماسوائے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد جو کہ ہمیشہ عوامی لیڈر ہی کہلائے نظر آئے ، وزیراعظم ، وزیر اعلیٰ اور دیگر وزیر پارٹی اجلاسوں میں مصروف رہے ، صرف ماتحت اداروں کو مدد کے لیے کہہ دینا ہی کافی نہیں ہوتا ۔حکومت کے ترجمانوں کی الگ الگ کہانیاں بھی عوام کی سمجھ سے بالا تر رہی ، سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے تو ذمہ داری براہ راست پنجاب حکومت پر ڈال دی ، وفاقی وزیر مونس الٰہی نے بھی انتظامیہ کی کارکردگی قابل مذمت قرار دے دی ، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے واقعہ کو آبادی میں اضافہ قرار دے دیا ، حکومتی ترجمان شہباز گل نے کہا کہ ہم امریکہ میں ہوتے تھے تو کمبل لے کر سفر میں نکلتے تھے مگر یہاں ایسا نہیں ہوا ، حکمرانوں کے عجیب و غریب بیانات ہمارے وزراء کی نالائقی ، حواس باختگی اور حکومتی ٹیم کا ایک پیج پر نہ ہونا ثابت کرتے ہیں ۔ پاکستان میں زلزلہ ہو ، سیلاب آجائے یا پھر مری جیسے سانحات سے سامنا کرنا پڑجائے حکومت کوئی بھی ہو وقتی طور پر بڑے بڑے بول بولے جاتے ہیں مگر سانحہ کے چند دن بعد کبھی آنے والے سانحات سے نمٹنے کے لیے کوئی منصوبہ سازی نہیں کی جاتی ۔ آفات سے نمٹنے کے لیے افواج پاکستان کے علاوہ کوئی سول ادارہ ایسا نہیں جو فوری طور پر لوگوں کو ریسکیو کرسکے ۔ اپوزیشن رہنمائوںنے محض حکومت پر تنقید کی نشتر برسا کر اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی کوشش کی ، جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی سیاسی جماعت عوام کی مدد کے لیے میدان عمل میں نظر نہ آئی، کیا مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنا حکومتی اداروںاور مقامی لوگوں کا ہی ذمہ ہے ، مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ق اور دیگر سیاسی جماعتیں جو پاکستان کو اپنا جاگیر سمجھ کر حق حکمرانی کے دعوے کرتے ہیں ان کی اپنی ٹیمیں کہاں تھیں جو لوگوں کو مدد کرتی،اگر وزیراعظم ، وزیر اعلیٰ یا اعلیٰ سرکاری ذمہ داران وہاںنہیں پہنچے تو اپوزیشن کا کوئی لیڈر بھی وہاں نہ پہنچ کر اتنا ہی ذمہ دار ہے ، ایک لاکھ گاڑی میں کوئی 5لاکھ سے زائد لوگوں میں سے کیا اپوزیشن لیڈروں سے محبت کرنے والا کوئی نہیں تھا ؟بلاول بھٹو ، مریم نواز، شہبازشریف ، چوہدری پرویز الٰہی ،مولانا فضل الرحمن اور دیگر پارٹیوں کے قائدین کو بھی وہاں سارا دن سڑکوں پر لوگوں کی مدد کرتے نظر آنا چاہیے تھا۔ سانحہ مری کے ذمہ داران کی انکوائری ضرور ہونی چاہیے ، خاص طور پر وہاں کے ہوٹل مافیا کے خلاف کارروائی بہت ضروری ہے ، کیونکہ اطلاعات کے مطابق وہاں ایک رات کے لیے 50ہزار روپے ایک کمرے کا کرایہ مانگا جارہا تھا ، اُبلا ہوا ایک انڈا 500روپے اور چائے کا کپ 500روپے تک فروخت کیا جارہا تھا ، مقامی انتظامیہ سیاحوں کو اس طرح لوٹنے والوں سے حصہ لینے کی بجائے کارروائی کرنا چاہیے تھی اور آئندہ کے لیے ہم حکومت کو تجویز دیتے ہیں کہ وہاں سیاحوں کے لیے ہوٹل میں رہائش پذیر ہونے کے لیے کرایہ فکس کرنا چاہیے اشیائے خوردونوش مہنگے داموں فروخت کو روکنے کے لیے کوئی مناسب اقدامات کرنا چاہیے ۔ بڑے پیمانے پر سرکاری طور پر گاڑیوں کی پارکنگ کا انتظام کرنا چاہیے ۔ ملک بھر کے کسی بھی سیاحتی علاقے میں ضرورت سے زائد گاڑیوں کے داخلہ کو روکنا چاہیے ۔ملک میں کہیں بھی کوئی بڑا ایونٹ ہو، سیاحتی پوائنٹ ہو ، ناگہانی آفات ہو، ان سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت کوئی ایسی ٹیم تشکیل دینی چاہیے لوگوں کو شعور بھی دے اور وقت آنے پر لوگوں کو گھنٹوں ذلیل و خوار ہونے اور موت کے منہ میں جانے سے پہلے ریسکیوکرنا شروع کردیں۔