اوسلو (پ۔ر) پاکستان یونین ناروے نے بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کے 146 ویں یومِ پیدائش کے سلسلے میں دارالحکومت اوسلو میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا جس میں ناروے میں پاکستان کے سفیربابرامین، کمیونٹی ویلفیئراتاشی خالد محمود، ناروے میں مقیم اہم پاکستانی سماجی، ثقافتی، دینی اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام اللہ سے ہوا جس کی سعادت مولانا اسجد نے حاصل کی۔ میزبان شخصیات نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ اس موقع پر قومی ترانہ سنایا گیا۔ پاکستان یونین ناروے کے سیکرٹری اطلاعات ملک پرویز مہر نے سفیرپاکستان بابرامین اور یونین کے سینئرعہدیدار سید ذکی الحسن شاہ نے کمیونٹی ویلفیئر اتاشی خالد محمود کو پھول پیش کئے۔پاکستانی یونین ناروے ے کے چیئرمین چوہدری قمراقبال نے تقریب کے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور انہیں بانی پاکستان کے یوم ولات پر مبارک باد پیش کی۔ اس موقع پر ناروے میں پاکستان کے سفیر بابر امین اور کمیونٹی ویلفیئراتاشی خالدمحمود اور دیگر شخصیات نے بھی خطاب کیا۔اپنے خیرمقدمی خطاب میں چوہدری قمراقبال نے کہاکہ ہم بانی پاکستان محمد علی جناح کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے بڑی زیرک نظری اور انتہائی بصیرت سے پاکستان کی آزادی کا کیس لڑا۔ یہ بانی پاکستان کی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستانیوں کو ایک آزاد وطن میسر ہے۔ ہم آزادی کی نعمت کا احساس اور اندازہ ان اقوام کی حالت سے لگا سکتے ہیں جو آج بھی محکوم ہیں۔انہوں نے بانی پاکستان کی سبق آموز نصیحت کا بھی تذکرہ کیا جس میں انہوں نے یقین، نظم و ضبط اور فرض شناسی میں بے لوث ہونے پر زور دے کر کہاتھا کہ انسان ان خصوصیات کے ساتھ بڑے سے بڑے مقصد تک پہنچ سکتا ہے۔“With faith, discipline and selfless devotion to duty, there is nothing worthwhile that you cannot achieve”.

چوہدری قمراقبال نے مہمانوں کے سامنے پاکستان یونین ناروے کا تعارف پیش کیا۔انہوں نے سفیرپاکستان بابرامین کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہاکہ ہم دعاگو ہیں کہ وہ ناروے میں اپنی تعیناتی کے دوران پاکستان اور ناروے کے تعلقات کے مزید فروغ اور نارویجن پاکستانی کمیونٹی کی بہتری کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔چوہدری قمراقبال نے کمیونٹی ویلفیئر اتاشی خالد محمود کی خدمات خاص طور پران کی پاکستانی کمیونٹی کو متحرک رکھنے اور پاکستان کاز کے لیے کمیونٹی کا اتحاد و اتفاق برقرار رکھنے اور مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے ان کی کاوشوں کو سراہا اور انہیں مبارکباد دی۔ انہوں نے کہاکہ ہماری خواہش ہے کہ آئندہ بھی ناروے میں اس طرح کے پاکستانی سفارتکار تعینات ہوں تاکہ وہ ملک و قوم کا نام بھی روشن کریں اور نارویجن پاکستانی کمیونٹی کے لیے بہتر خدمات فراہم کریں۔چیئرمین پاکستان یونین ناروے نے پاکستانی کمیونٹی کا بھی شکریہ اداکیا کہ جو پاکستان یونین ناروے پر بھرپور اعتماد کرتی ہے۔چوہدری قمراقبال نے قائداعظم کے یوم پیدائش پر پوری پاکستانی قوم اور نارویجن پاکستانی کمیونٹی کو مبارکباد پیش کی۔انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان یونین ناروے بین الاقوامی سطح پر اپنی ایک شناخت رکھتی ہے اور یونین کو یہ مقام دلوانے میں جن دوستوں کا جذبہ و کوشش شامل ہے ان میں منشاء خان نوناوالی، سید ذکی الحسن شاہ، ملک پرویزمہر، محمد اصغردھکڑ، نصراللہ قریشی، شہزاد غفور، اصغرخان، احسان حیدر، محمدالیاس گھرکو، اظہراقبال رندھر، شاہد منیر، میاں بشیرحسین، ندیم رشید، طاہرمحمود، عمران خان، وقار انصر، کاشف محمود اور عاطف محمود قابل ذکر ہیں۔انہوں نے کہاکہ ان دو دوستوں کا بھی ذکر کروں گا جو اب ہم میں موجود نہیں۔ مرحوم محمد رفیق اور مرحوم صوفی ملازم کے خلوص، کاوش اور محبت کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں۔ ان کے لیے اتنا کہوں گا، آج جس مقام پر یونین کھڑی ہے، یہ سب ان کی بدولت ہے رب باری تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔اب میں اوسلو کے معزز مخلص دوستوں کا بھی تہیہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے شروع سے لے کر ابتک ہمارے ساتھ تعاون کیا اور ابتک ہماری حوصلہ افزائی کرتے آرہے ہیں۔ ان میں سے کچھ یہاں تشریف فرما ہیں، جن میں حاجی محمد اشرف اتم، محمد اکرم سیکریالی، غفوربٹ، تنویراحمد بہیبھلی، چوہدری شمعون، سید خالد حسین شاہ، سید ضیغم شاہ اور طارق بھٹی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ہم بہت پیارے دوست ڈاکٹر سید سبطین شاہ کے بھی شکرگزار ہیں جو ان دنوں پاکستان میں ہونے کی وجہ سے آج کی اس تقریب میں شریک نہیں ہوسکے۔ ان کی طرف سے بھی تمام معزز مہمانوں کو اور دوسرے دوستوں کو قائداعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش پر دلی مبارکباد ہو۔ گجرات سے ہمارے نوجوان دوست مبین الرحمان بھی پاکستان یونین ناروے کی ٹیم کا حصہ ہیں جو ٹؤرزم ہیریٹچ پر کام کررہے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ اس سلسلے میں ایک نمائش یورپ میں کرائی جائے اور خاص طور پر ناروے میں وہ اس سلسلے میں پاکستانی سفارتخانے کے تعاون کے خواہشمند ہیں تاکہ پاکستان یونین ناروے اور سفارتخانہ کی ہم آہنگی سے ناروے میں پاکستان میں ٹؤرزم کے مواقع کو متعارف کروایا جاسکے۔ اپنی گفتگو کے اختتام پر ایک بار پھر انہوں نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ناروے میں پاکستان کے سفیر بابر امین نے اپنے خطاب میں کہاکہ میرے لیے خوشی اور اعزاز کی بات ہے کہ مجھے پاکستان یونین ناروے کے چیئرمین چوہدری قمراقبال نے قائداعظم کے یوم ولادت پر اس تقریب میں مدعو کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ اس خوبصورت تقریب کا انعقاد چوہدری قمراقبال اور ان کی ٹیم میں پاکستان کے حوالے سے سچے جذبات کا ثبوت ہے۔ دوسری بات بھی خوش آئند ہے کہ یہ تقریب کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے مقررہ تمام قوانین کو ملحوظ خاطر رکھ کر منعقد کی گئی ہے۔ سفیرپاکستان نے کہاکہ مجھے آنے سے پہلے بتایا گیا کہ پاکستان یونین ناروے ایک منظم اور فعال تنظیم ہے جوطویل عرصے سے نارویجن پاکستانی کمیونٹی اور ناروے میں پاکستان کی ثقافت کو اجاگرکرنے کے لیے خدمات انجام دے رہی ہے۔ یہ بھی خوشی ہے کہ ناروے میں پاکستانی کمیونٹی بہت متحرک ہے۔سفیرپاکستان نے کہاکہ ناروے میں پاکستانی کمیونٹی بہت معتبر سمجھی جاتی ہے اور قدرکی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ میں نے ناروے کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی ہیں، انہوں نے بھی نارویجن پاکستانیوں کی ناروے کے لیے خدمات کی تعریف کی ہے۔یہ سن کر میرا سر فخر سے بلند ہوگیا ہے۔ ناروے کی حکومت نے ناروے میں پاکستانیوں آمد کی پچاس سالہ کی تقریبات کا انعقاد کیا ہے جنمیں ناروے کے بادشاہ اور ان کی کے خاندان کے افراد نے بھی شرکت کی۔ ہمارے لیے یہ سب باتیں خوش آئند ہیں۔ جہاں تک یوم قائد کی بات ہے، بانی پاکستان محمد علی جناح نے پاکستان کی شکل میں ایک آزاد وطن ہمیں عطا کیا، اس بات پر ہم جنتا بھی رب کا شکرادا کریں کم ہے۔بانی پاکستان جن کی پہلے پہل آل انڈیا کانگرس سے وابستگی تھی، کو یہ احساس ہوگیا تھا کہ اگر ایک ہی ملک میں مسلمان اور ہندو اکھٹے رہتے ہیں تو مسلمان اپنے انفرادی مذہبی تشخص اور ثقافتی و معاشی حیثیت قائم نہیں رکھ سکیں گے لہذا قائداعظم کانگرس کو چھوڑ کر مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ حکومت پاکستان نے بمبئی میں جناح کے آبائی گھر میں پاکستانی قونصل خانہ قائم کرنے کے لیے کوشش کی تھی مگر بھارتی حکومت اس بات پر رضامند نہیں ہوئی۔ بانی پاکستان کی ایک بات بہت قابل ستائش ہے جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ انہوں نے آزادی کی اتنی بڑی جدوجہد کی، مگر یہ جدوجہد پرامن قانونی طریقے سے کی گئی، انہوں نے اپنی سیاسی بصیرت سے ایک آزاد ریاست حاصل کی۔ ان کے سنہری اصول ہرزبان زد عام ہے، یعنی اتحاد، ایمان اور نظم۔سفیرپاکستان نے مسئلہ کشمیرکے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ مسئلہ پاکستان کی آزادی کے ایک نامکمل حصے کا نام ہے۔ کشمیر کے لوگوں کی ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کریں۔لہذا کشمیریوں کو اپنی رائے کا حق ملنا چاہیے تاکہ وہ خود فیصلہ کریں کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پھر پاکستان کے ساتھ،ان کا یہ فیصلہ انسانی حقوق کے علمبرداروں اور تمام اقوام عالم کو تسلیم کرنا چاہیے۔سفیرپاکستان بابرامین نے کہاکہ ناروے میں سفارتخانہ پاکستان بھی اپنے طریقے سے ہرفورم پر کشمیر کے حوالے سے بات کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔ یہ مسئلہ یورپ میں عوامی سطح پر بھی اٹھایا جانا ضروری ہے کیونکہ جب عوام آواز اٹھاتی ہے تو اس کا اثر حکومتوں پرزیادہ پڑتا ہے۔سفارتخانہ پاکستان کے کمیونٹی ویلفیئراتاشی خالد محمود نے کہاکہ پاکستان یونین کے چیئرمین چوہدری قمراقبال اور یونین کی پوری ٹیم لائق تحسین ہے جنہوں نے آج کی شاندار تقریب کا انعقاد کیا۔پاکستان یونین ناروے ایک متحرک تنظیم ہے جو کافی عرصے سے ہر قومی تہوار کو مناتی ہے۔ کچھ سال قبل میری ناروے میں تعیناتی کے بعد سب سے پہلا پروگرام پاکستان یونین ناروے کا تھا میں نے جس میں شرکت کی۔ تب ہی مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ یونین کتنی فعال ہے۔ بانی پاکستان کی جدوجہد پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہاکہ برصغیر کے مسلمان ظلم و ستم کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا کرم باعث بنا کہ قائداعظم محمد علی جناح جیسا ایک عظیم رہنماء پیدا ہوا جس نے اپنے غیرمتزلزل ارادوں سے جدوجہد کا آغاز کیا اور برصغیر کے مسلمانوں نے بھی اپنے سچے رہنماء کے پیچھے لبیک کہا۔ بلآخر وہ ایک معجزے کی صورت میں پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اب ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ میں ناروے میں پاکستانیوں کے جس پروگرام میں بھی جاتا ہوں، مجھے خوشی ہوتی ہے کہ ناروے میں بسنے والے پاکستانی پاکستان سے والہانہ محبت کرتے ہیں اور خاص طور پر کشمیر کے حوالے سے اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔پاکستانی سفارتخانے میں پاکستان کے حوالے سے پاکستان یونین ناروے ہرتقریب میں بڑے خلوص اور جذبے سے تعاون کرتی ہے، اس پر میں یونین کے تمام اراکین اور دوستوں کا شکرگزار ہوں۔پاکستان یونین ناروے کے سابق صدر ڈاکٹرسید جمیل طلعت نے اپنے خطاب میں سفیر پاکستان بابرامین اور کمیونٹی ویلفیئراتاشی خالد محمود کا خیرمقدم کیا۔انہوں نے کہاکہ قائداعظم کی زندگی خصوصاً ان کی لیاقت، حاضر دماغی اور فہم و فراست سے متعلق کچھ اہم واقعات بیان کئے۔ڈاکٹر جمیل طلعت نے پاکستان یونین ناروے کے پس منظر کے بارے میں بھی شرکاء کو آگاہ کیا جس پر شرکاء کی طرف سے پاکستان یونین ناروے کی خدمات کو سراہا گیا۔ انہوں نے یونین کو ملنے والے ملکی اور بین الاقوامی ایوارڈز کا بھی تذکرہ کیا جن میں ملکہ برطانیہ کی طرف سے ہائی شیریف مانسچسٹر ایوارڈ، وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے ایوارڈ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی طرف سے شیلڈ اور تعریفی سند شامل ہیں۔اس موقع پر سماجی شخصیت تنویر احمد بہیبھلی نے کہاکہ جس طرحبھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ظلم و زیادتی ہورہی ہے اور ان پر انسانی سوز مظالم ڈھائے جارہے ہیں، انہیں دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ رب کریم نے قائداعظم کے وسیلہ سے ہمیں ایک آزاد پاکستان عطا کیا ہمیں جس کی قدر کرنی چاہیے۔ ہمیں اس بات پر زور دینا چاہیے کہ ہم قائداعظم کے اصول اپناتےہوئے اپنے ملک میں امن و سلامتی اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔ اس بات کا کریڈٹ پاکستان یونین کو جاتا ہے کہ یہ یونین پاکستان کا ہرقومی تہوار مناتی ہے اور یونین کو متحد رکھنےمیں یونین کے چیرمین چوہدری قمراقبال کا بڑا کردار ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ میں ناروے میں بھرپور انداز میں کشمیر کا مسئلہ اجاگر کرنے پر سفارتخانہ پاکستان کے کمیونٹی ویلفیئراتاشی خالد محمود کی کاوشوں کو سراہتا ہوں۔سماجی تنظیم سکون کے چیئرمین شاہد جمیل نے کہاکہپچیس دسمبر ایک نیک دن ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس دن کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو پاکستان کی اہمیت بتائیں۔انہوں نے بتایاکہ ہم نے بھی آج کے دن انگریزی میں ایک اخبار پاکستان ناروے نیوز کا آغاز کرلیا ہے۔ یہاں پر اردو کے علاوہ انگریزی میں بھی ایک اخبار کی ضرورت تھی۔ انہوں نے پاکستان یونین ناروے کو آج کی تقریب پر کے انعقاد کرنے پر مبارکباد دی۔اختتام پر بانی پاکستان کی سالگرہ کا کیک کاٹا گیا اور پاکستان کی سلامتی اور بانی پاکستان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔پاکستان یونین ناروے کے سیکرٹری اطلاعات ملک پرویز مہر نے سفیرپاکستان بابرامین اور یونین کے سینئرعہدیدار سید ذکی الحسن شاہ نے کمیونٹی ویلفیئر اتاشی خالد محمود کو پھول پیش کیے۔

117Chaudry Asghar Dhakkar, Abdul Rehman Ch and 115 others50 Comments9 SharesLikeCommentShare

50