پاکستان تحریک انصاف کے قائد اور وزیراعظم پاکستان عمران خاں کو 22سالہ جدوجہد کے بعد اقتدارملے ساڑھے تین سال گزرگئے ہیں، بطور اپوزیشن رہنما عمران خاں کی کارکردگی ماضی کے تمام اپوزیشن پارٹیوں کے سربراہان سے زبردست اور قابل ستائش رہی ، انہوںنے عوام کو بے پناہ شعور دیا اور حکمرانوں کی عیاشیوں ، کرپشن ، اقرباء پروری ، قومی خزانے کے بے دریغ نقصان ، عوام کے سلگتے ہوئے مسائل کو بڑے احسن انداز میں پیش کیااور حقیقی معنوں میں عوام کی ترجمانی بھی کی مگر انہیں معلوم نہیں تھا کہ اقتدار پھولوں کی سیج نہیں ، ساڑھے تین سالہ کارکردگی کاجائزہ لیا جائے تو لگتا یہی ہے کہ ہمارے وزیر اعظم عمران خاں کے خوابوں کی تعبیر پانچ سالہ دور اقتدار کے باجود پوری نہیں ہوسکے گی ۔ جن مسائل کو وہ اقتدار ملنے کے بعد چٹکیوں میں حل کرنے کا اعلان کرتے تھے وہ پہلے سے بھی زیادہ گھمبیر ہوچکے ہیں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ڈالر کی اُڑان اتنی اونچی ہوجائے گی ، مہنگائی کی شرح تیزی سے بڑھ جائے گی ، غربت کے خاتمہ کے بجائے بے پناہ اضافہ ہوجائے گا۔ پی ٹی آئی کے ورکروں کے علاوہ عام عوام جوپیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور حکومت اور طرز حکمرانی سے تنگ تھے ان کو عمران خاں سے بہت زیادہ امیدیں تھیں کہ تیسری پارٹی کو موقع ملنے سے شاید ملک کے حالات بدل جائے ہر کوئی پی ٹی آئی کی کامیابی کی شکل میں پاکستان کو ایک خود مختار ، خوشحال ، پرامن اور انصاف پسند ریاست دیکھ رہا تھا مگر ملک جن اندرونی اوربیرونی مگرمچھوں کے شکنجے میں آچکا ہے شاید ان سے آزاد کروانے کے لیے قائداعظم محمد علی جناح طرز کی پرامن سیاسی جدوجہد کی ضرورت نہیں بلکہ ایران کے امام خمینی طرز کے انقلاب کی ضرورت ہے ، جو ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والوں کو سرعام چوکوں میں پھانسیوں کے پھندے لگا کر عبرتناک انجام سے دوچار کرے تاکہ آنے والوں میں سے کوئی کرپشن، منی لانڈرنگ، لاقانونیت کی جرات نہ کرسکے۔ دنیا کے جمہوری ملکوں کی جڑیں جمہوریت کی وجہ سے مضبوط ہوئی ہیں مگر بدقسمتی سے اس گھر کو گھر کے چراغ سے ہی آگ لگتی رہی ، یہاں حکومتیں کرنے والوں کی اولادیں ، کاروبار، جائیدادیں باہر کے ملکوں میں بنانا ہی وطن عزیز کے ساتھ دھوکہ ہے ۔ تمام مراعات اور سرمایہ اس ملک سے کمائیں یا پھر لوٹیں لیکن دولت باہر کے ملکوں میں لے جائیں اس سے بڑی غداری اور کیا ہوگی ۔ سیاستدانوں کے ذاتی کاروبار دن دگنی رات چوگنی ترقی کریںمگر انہی کے ماتحت چلنے والے ملک ادارے دیوالیہ ہوجائیں یہ ان کی نااہلیت کا ثبوت نہیں بلکہ کرپشن کا ثبوت ہے ۔ اس وقت بھی سیاستدانوں کے علاوہ ملک کے تمام بڑے بڑے بیوروکریٹس ، ججز ، جرنیل ریٹائرمنٹ کے بعد بیرون ملک زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں ، آخر کیوں؟ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی لاکھوں روپے کی ماہانہ پنشن ، مراعات سمیت وصول کرنے کے باوجود اس ملک کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ یہاں زندگی کے آخری حصہ کو گزار سکیں ۔ اگر مذکورہ بالا طبقہ پر پابندی لگا دی جائے کہ وہ بیرون ملک رہائش پذیر نہیں ہوسکتے تو وہ پاکستان کو امریکہ ، برطانیہ اور یورپ سے اچھا ملک بناسکتے ہیں ،جب محکمہ تعلیم کے افسران اور حکومتی وزراء کے بچے اچھے پرائیویٹ سکولز میں تعلیم حاصل کریں گے تو پھر سرکاری سکولز کا پرسان حال کون ہوگا۔ اگر ان لوگوں کو پتہ چل جائے کہ ہمارے بچوںنے بھی صرف گورنمنٹ سکولز میں ہی پڑھنا ہے تو یقین جانیں گورنمنٹ سکولز کے حالات بدل جائیںگے ۔ جب محکمہ صحت کے افسران اور وزراء اپنے علاج صرف سرکاری ہسپتالز سے کروائیں گے تو پھر ہر سرکاری ہسپتال میں وہ تمام سہولتیںمیسر ہوںگی جو کسی بڑے سے بڑے پرائیویٹ ہسپتال میں موجود ہیں ۔ پاکستان میں دیہی علاقوںمیں خاص طور پر بننے والی سڑکیں شاید ہی کوئی ایسی مل سکیں جو پانچ سال بھی ٹھیک سے نکال سکیں ہر ایم پی اے ، ایم این اے اپنے فنڈز میں سے آخری دو تین سال میں سڑکیں بنانا شروع کرے گا تاکہ ووٹ لے سکے اور کمیشن بھی حاصل کرسکے یہی وجہ ہے کہ نئی بننے والی حکومت کو وہ سڑکیں دوبارہ بنانا پڑتی ہیں ۔اگر ٹھیکیدار اور اتھارٹی سے بیان حلفی لے لیا جائے کہ اس سڑک کی مدت کیا ہے اور پھر اس دوران ٹوٹ پھوٹ پر ان کے خلاف کارروائی ہو تو یقین جانیں قوم کے اربوں کھربوں روپے کے فنڈزضائع ہونے سے بچ سکتے ہیں ۔ وزیراعظم عمران خاں صاحب ! جہاں ساڑھے تین سال گزرتے پتہ نہیں چلا وہاں بقیہ ڈیڑھ سال گزرتے بھی پتہ نہیں چلنا لیکن اگر آپ سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے تو پھر عوام آپ کی باتوں پر اعتبار نہیں کرے گی ۔ آپ عوام کو محض اپنے دکھڑے سنا کردوبارہ دل نہیں جیت سکیںگے ۔ لہٰذا آج سے اپنی پرانی تقریریں سننا شروع کریں اور عوام کو غربت ، مہنگائی ، کرپشن اور بے روزگاری سے نجات دلانے کے لیے کوئی ماسٹرپلان تشکیل دیں جس پر فوری طور پر عمل درآمد بھی ہوسکے اور عوام کو اس کے ثمرات بھی مل سکیں ۔ آئی ایم ایف کے شکنجے سے نکالنے کے فارمولے اگر ناکام ہوگئے تو قوم کے سے تجاویز لیں ، اس ملک کے ماہر اقتصادیات کو ایک میز پر اکٹھا کریں ۔انتخابی قوانین ایسے بنائیں کہ سرمایہ دارلوگ ، خاندانی سیاست کرنے والے ، سیاست کو بزنس سمجھنے والے خود ہی یہ میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں ، یہ قوانین بھی ایسے ہی پاس کروائیں جیسے ای وی ایم کے ذریعے ووٹنگ کرانے کے بل پاس کروائے گئے ۔ وزیراعظم صاحب ! مہنگائی ، غربت اور بے روزگاری انتہا پر ہونے کے باوجود بہت سارے لوگ آپ کی دیانتداری اور خلوص نیت کی وجہ سے آپ پر امیدیں باندھے ہوئے ہیں اگر آپ عوام کی امیدوں پر پورا نہ اُترے اور پھر پرانے لٹیروں کے رحم و کرم پر عوام کو چھوڑ گئے تو پھر شاید یہ عوام غلاموںسے بد تر زندگی گزارنے پر مجبور ہوگی ۔ اگر اپنے منصوبوں پر عمل درآمد کروانے کی راستے میں کوئی رکاوٹ بن کے کھڑا ہے تو پھر کل نہیں آج عوام کو سچ بتائیں ، اتحادیوں کی مجبوری ہو یاپھر ریاستی اداروں کی مجبوریاں ان کی پرواہ کیے بغیر آج سے عوام کو ریلیف دینے کی پالیسی شروع کردیں پھر چاہے آپ کو کام کرنے سے روکا جائے یا پھر حکومت کو مدت پوری نہ کرنے دی جائے کیونکہ جو کام آپ پانچ سال میں بھی نہ کرسکیں تو پھر ان پانچ سالوں کا فائدہ کیا ؟وزیر اعظم عمران خان صاحب ! اگر کوئی آپ کو یہ سمجھاکر معاملات جوں کے توں چلنے پر قائل کیے ہوئے ہے کہ اگلے پانچ سال بھی آپ کے ہیں آپ بہتر انداز میں ملک وقوم کی خدمت کرسکیں گے ابھی ہاتھ نرم رکھیں تو یہ شاید آپ کی سب سے بڑی غلط فہمی ہوگی ، وقت کی رفتار کوکوئی پکڑ نہیں سکا۔ وقت تیزی سے گزرتا جارہا ہے اور آپ کے وعدے دعوے پورے ہونا تو دور کی بات آپ کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل بھی حل طلب ہیں۔بڑے ٹیکس چوروں سے ٹیکس وصولیوں کی بجائے چھوٹے طبقہ کو ایف بی آر نچوڑ کر نظام حکومت بہتر نہیں بناسکتا ۔وزیر اعظم صاحب! اپنی موجودہ مدت کے بقیہ وقت کو ضائع مت کریں تیزی سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کریں وگرنہ وقت کسی کے ہاتھ میں نہیں ہوتا ۔