ماحولیاتی آلودگی ایک عالمی مسئلہ ہے، دنیا کا کوئی ایسا ملک نہیں جو اس سے محفوظ ہو،تین دہائی قبل تک شہروں میں موٹر گاڑیوں کی تعداد انتہائی کم تھی، تاہم آج ہر گھر میں کئی کئی گاڑیاں ہیںجو نہ صرف ٹریفک اورماحولیاتی شور میں اضافے کا سبب ہیں بلکہ ان سے نکلنے والا دھواں ماحول کو آلودہ کر رہا ہے۔ فضا میں زہریلی گیسوں کی مقدار میں تیزی سے اضافہ بھی آلودگی کا سبب بن رہا ہے، ملک کے بڑے صنعتی شہروں کی فضا کاربن ڈائی آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، ڈائی آکسن، ایلڈی ہائیڈ، کیٹون، بینزین کے کمپا¶نڈ، آیروسول اور فری ریڈیکلز جیسی ثقافتوں سے بھری پڑی ہے جو بنی نوع انسان کے علاوہ کرئہ ارض پر موجود ہر قسم کے جانداروں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کی ایک قسم ”سموگ” ہے، سموگ بنیادی طور پر ایسی فضائی آلودگی کو کہا جاتا ہے جو انسانی آنکھ کی حد نظر کو متاثر کر تی ہے، اسے زمینی اوزون بھی کہا جاتا ہے۔ سموگ اکثر بھاری ٹریفک، بلند درجہ حرارت، سورج کی روشنی اور پرسکون ہوا¶ں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ، اس کے پیدا ہونے کا انحصار درجہ حرارت اور ہوا پرہوتا ہے۔ حرارتی تقلیب کی وجہ سے گرم ہوا اوپر نہیں اٹھتی بلکہ زمینی سطح کے قریب رہتی ہے جس سے سموگ بڑھ جاتی ہے اور اگر ہوا بند ہو توسموگ اس علاقے میں قید ہو کر رہ جاتی ہے اور کئی دنوں تک چھائی رہتی ہے۔ سموگ میں موجود دھوئیں اور دھند کے اس امیزے میں کاربن مونو آکسائیڈ، میتھین، نائٹروجن آکسائیڈ جیسے زہریلے کمیائی مادے شامل ہوتے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان، خصوصاً پنجاب کی فضا میں سموگ کا مسئلہ سنگین ہو گیا ہے ،پاکستان میں سموگ نے 2015 میں اس وقت شدت اختیار کی جب موسم سرما کے آغاز سے پہلے پنجاب کے بیشتر علاقوں کو شدید دھند نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ یہ ایسی دھند ہے جس میں نہ تو سردی کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی جازبیت ہے بلکہ آنکھوں اور گلے میں جلن نے لوگوں کی توجہ حاصل کی اور مقامی میڈیا کی خبروں نے لوگوں کو ”سموگ” جیسے لفظ سے روشناش کروایا۔ سموگ اکتوبر سے جنوری تک کسی بھی وقت وارد ہو سکتی ہے، اس کی شدت 10 سے 25 دن تک طویل ہو سکتی ہے اور فوری ریلیف صرف بارش سے ہی ممکن ہے۔ صرف پنجاب نہیں بلکہ سارے پاکستان کی فضا بارہ مہینے ہی شدید فضائی آلودگی کا شکار رہتی ہے۔ دنیا کے ممالک میں اوسط عمر دیکھی جائے تو پاکستان کا نمبر 150 ہے،فضائی آلودگی ماپنے کا اہم پیمانہ ”ائیر کوالٹی انڈکس” یعنی AQI ہے، صفر سے 100 تک کا AQI صحت مند، 101 سے 200 تک کا غیر صحت مند اور اس سے زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے اوسط کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں فضائی آلودگی کے حساب سے دوسرے نمبر پر ہے۔ ان اعدادوشمار کو بیان کرنے کا مقصد آپکو اس مسئلے کی سنجیدگی سے روشناس کروانا ہے ، نہ جا نے کیوں ہم بحیثیت قوم اس مسئلے کی حقیقت ماننے کو تیار نہیں، نزلہ، کھانسی، گلاخراب، سانس کی تکلیف اور آنکھوں میں جلن وہ ظاہری علامات ہیں جو سموگ کے باعث ہر عمر کے شخص کو بری طرح متاثر کرتی ہیں جبکہ سموگ انسانی صحت کو ایسے نقصانات بھی پہنچاتی ہے جو بظاہر فوری طور پر نظر تو نہیں آتے لیکن وہ کسی بھی شخص کو موذی مرض میں مبتلا کر سکتے ہیں جیسا کہ پھیپھڑوں کا خراب ہونا یا کینسر۔ سانس کی بیماریوں میں مبتلا لوگوں خاص طور پر (Asthma) دمہ کے مریضوں کے لیے سموگ انتہائی خطرناک ہے اسکی وجہ سے پھپھڑوں کے کام کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے، سانس لینے میں کمی، درد، آنکھوں اور ناک کی جلن کا سبب اور یہ ناک اور آنکھوں کو خشک کر دیتی ہے جس وجہ سے انفیکشن سے لڑنے کی جسمانی صلاحیت کم ہو جاتی ہے اور بیماریوں سے حساسیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق بچے اور بوڑھے افراد سموگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، اس لیے سموگ بڑھ جائے تو احتیاط برتنی چاہئے۔
سموگ کی وجہ سے دیکھنے کی حد میں کمی آ جاتی ہے، جس سے ٹریفک حادثات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سموگ کی نمایاں وجوہات میں فصلوں کو جلائے جانا، بارشوں میں کمی، دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں، فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں اور اینٹوں کے بھٹوں سے نکلنے والا دھواں شامل ہے۔ اس کے علاوہ لوگ کوڑا کرکٹ اٹھا کر آگ لگا دیتے ہیں جو ماحول کو مزید آلودہ کرنے کا باعث بنتا ہے۔ جنگلات میں کمی، لوگوں کا ذاتی مفاد کے لیے درختوں کو کاٹنا بھی سموگ میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ حکومت پنجاب کے مطابق سموگ کے دوران ہمیں چاہیے کہ روزانہ زیادہ سے زیادہ پانی پیئںاور زیادہ وقت گھروں میں گزاریں، گلیوں اور سڑکوں پر بلاوجہ چلنے سے گریز کریں، سفر کے دوران ہیلمٹ اور چشمے کا استعمال لازمی کریں، ماسک لگائیں اور سفر کے بعد آنکھیں پانی سے دھوئیں تاکہ سموگ کے اثرات سے بچا جا سکے ،سموگ سے متعلق احتیاطی اور معلوماتی لیکچرز کا اہتمام کیا جانا چاہئے۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایات پر ضلع گجرات میں سموگ سے بچا¶ کے لیے ڈپٹی کمشنر مہتاب وسیم اظہر کی قیادت میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے بھرپور اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے، ضلع میں سموگ اور آلودگی کا باعث بننے والے 27 صنعتی یونٹس سیل کر دیے گئے ہیں، 13 بھٹہ خشت مالکان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔ صوبائی حکومت نے سموگ اور آلودگی کا باعث بننے والوں کے خلاف جرمانہ کی رقم میں بھی اضافہ کر دیا ہے، فصلوں کی باقیات جلانے والوں کے خلاف مقدمہ اور پچاس ہزار روپے جرمانہ عائد ہوگا۔ آلودگی اور سموگ کا باعث بننے والے صنعتی یونٹس، بھٹہ خشت کیخلاف جرمانہ کی رقم بڑھا دی گئی ہے اور اب ان پر پچاس ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا،دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف جرمانہ کی رقم ایک ہزار روپے سے بڑھا کر دو ہزار کر دی گئی ہے۔ پنجاب حکومت کی ہدایات کے مطابق کوڑا کرکٹ کو آگ لگانے کی صورت میں متعلقہ میونسپل کمیٹی کے چیف آفیسر کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت محکمانہ کاروائی ہوگی، سیکرٹری آر ٹی اے اور ٹریفک پولیس دھواں چھوڑنے والے گاڑیوں کے خلاف موثر کریک ڈاﺅن کریں، انڈسٹریل یونٹس کی مانیٹرنگ کے لیے ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔ سموگ کی صورتحال پر نظر رکھنے اور فوری مناسب اقدامات کے لیے ڈی سی آفس اور اے سی دفاتر میں کنٹرول روم قائم کر دئیے گئے ہیں۔ ضلع میں ائیر کوالٹی انڈیکس اب تک اطمینان بخش ہے تاہم صورتحال خراب ہونے کی صورت میں ریلیف کمشنر پنجاب کے مطابق مزید اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ اگرچہ حکومت سموگ سے نمٹنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے، تاہم عوام کو بھی چاہئے کہ وہ ان کوششوں میں حکومت کا ساتھ دے کیونکہ ماحولیاتی آلودگی کسی ایک کا نہیں، ہم سب کا مسُلہ ہے۔ اس مسُلے سے نمٹنے کے لیے ہم سب کو اجتماعی اور انفرادی طور پر شجرکاری پر بھرپور توجہ دینا ہو گی تاکہ موسمی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچا جا سکے۔

By admin